پشاور ہائیکورٹ نے تعلیمی بورڈ چیئرمین اور کنٹرولر کو طلب کرلیا۔عدالت نے طالب علم کا اصل پرچہ اور مکمل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔
طالب علم کے والد نے عدالت کو بتایا کہ مسئلہ حل ہوگیا ہے۔پشاور تعلیمی بورڈ کے وکیل نے عدالت کو بتایا غلطی سے طالبعلم کے پرچے کو دوسرا کمپیوٹر جنریٹڈ کوڈ دیدیا گیایہ تو وکیل کا بیٹا تھا عدالت آگیا تو پتہ چل گیا۔کتنے اور طلباء ہوں گے جن کے ساتھ ایسا ہوا ہوگا۔ہر کوئی تو عدالت نہیں آسکتا
آپ بورڈ والے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں
معزز جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسے کیسز آتے ہیں، بچوں کو نمبر کم دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں غلطی ہوگئی۔آپ لوگوں نے روٹین بنا لیا ہے،اس کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی تو پھر کچھ بہتری آئے گی۔
