سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ کی ایک مسجد کے اندر مبینہ نازیبا اور غیر اخلاقی حرکات کے الزام میں گرفتار ایک بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق سکیورٹی حکام نے بنگلہ دیشی مرد نذر الاسلام اور خاتون سیتی اختر دونوں کو گرفتار کیا اور انھیں متعلقہ عدالت میں پیش کیا۔وزارت داخلہ نے کہا کہ عدالت نے جرم کی سنگینی، مکہ مکرمہ اور مسجد کے تقدس کی خلاف ورزی اور اُن حالات کے باعث یہ سزائیں سنائیں جن میں یہ افعال کیے گئے تھے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق سزائے موت کے ابتدائی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل پر بھی اعلی عدالت کی طرف سے فیصلہ برقرار رکھا گیا اور اس کے بعد سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے شاہی حکم جاری کیا گیا۔
پاک سرزمینِ مکہ کی ایک مسجد میں کوئی اللہ کے سامنے نازیبا اور غیر اخلاقی حرکات کیسے کر سکتا ہے؟ کیا ہم اللہ کے سامنے بھی اپنے نفس اور ہوس پر قابو نہیں رکھ سکتے؟
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں اکتوبر 2026 تک، یعنی رواں سال کے 9 ماہ میں 175 سے زیادہ افراد کو سزائے موت دی جا چکی تھی،جس میں اکثریت غیر ملکی شہریوں پر مشتمل تھی۔ سنہ 2026 کے دوران 20 سے زیادہ ممالک کے کم از کم 94 غیر ملکی شہریوں کو سعودی عرب میں موت کی سزا دی گئی۔سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت پر عملدرآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
